اگست 2, 2026

صبح یا شام کی واک؟ ماہرین نے بہترین وقت سے متعلق اہم حقیقت بتا دی

0
صبح یا شام کی واک؟ ماہرین نے بہترین وقت سے متعلق اہم حقیقت بتا دی

صبح یا شام کی واک؟ ماہرین نے بہترین وقت سے متعلق اہم حقیقت بتا دی

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)صحت: طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح ہو یا شام، باقاعدگی سے کی جانے والی چہل قدمی دونوں اوقات میں صحت کے لیے یکساں مفید ہے۔ ان کے مطابق اصل اہمیت واک کے وقت کی نہیں بلکہ اس کی پابندی سے ہے۔

ماہرین کے مطابق روزانہ 30 سے 45 منٹ تیز رفتاری سے چلنا دل کی صحت بہتر بنانے، وزن کم کرنے، پٹھے مضبوط کرنے اور ذہنی دباؤ میں کمی لانے میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صبح کی چہل قدمی سے قدرتی دھوپ حاصل ہوتی ہے، جو جسمانی گھڑی کو متوازن رکھنے، وٹامن ڈی کی پیداوار بڑھانے اور رات کو بہتر نیند میں مدد دیتی ہے۔ اس کے علاوہ صبح ورزش کرنے سے مزاج خوشگوار رہتا ہے، توجہ میں اضافہ ہوتا ہے اور دن بھر چستی برقرار رہتی ہے۔

دوسری جانب شام کی واک کے دوران جسم کا درجہ حرارت نسبتاً زیادہ ہونے کے باعث پٹھے اور جوڑ زیادہ لچکدار ہوتے ہیں، جس سے تیز رفتاری سے چلنا آسان محسوس ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق شام کی چہل قدمی ذہنی دباؤ کم کرنے، تھکن دور کرنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے میں بھی مددگار ہے۔

وزن کم کرنے کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح اور شام دونوں وقت کی واک مؤثر ہے، بشرطیکہ متوازن غذا کے ساتھ مجموعی طور پر کیلوریز کی کمی برقرار رکھی جائے۔

ماہرین کے مطابق باقاعدہ چہل قدمی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے، خون کی روانی بہتر بنانے اور ٹائپ 2 ذیابیطس، موٹاپے سمیت طرزِ زندگی سے وابستہ کئی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

نیند کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح کی واک قدرتی نیند کے نظام کو بہتر بناتی ہے، جبکہ شام کی ہلکی یا درمیانی رفتار سے کی جانے والی واک بھی ذہنی سکون فراہم کر کے اچھی نیند میں مدد دیتی ہے، البتہ سونے سے فوراً پہلے سخت ورزش سے گریز کرنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے