ٹرمپ کا ایران پر حملہ مؤخر کرنے کا دعویٰ، تہران کی سخت جوابی کارروائی کی دھمکی
ٹرمپ کا ایران پر حملہ مؤخر کرنے کا دعویٰ، تہران کی سخت جوابی کارروائی کی دھمکی
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی درخواست اور مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک کے اصرار پر ایران پر مجوزہ حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم یہ فیصلہ اس شرط سے مشروط ہے کہ ایران کے ساتھ جلد کسی معاہدے پر پیش رفت ہو۔
ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف بھرپور عسکری کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار تھا، لیکن سفارتی درخواستوں کے پیش نظر حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں اسرائیل بھی شریک ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کو کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے باز رہنے کی سخت تنبیہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان، پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں خطے کی صورتحال اور ممکنہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ادھر ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل سے وابستہ میڈیا ادارے نور نیوز نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو ایران خطے میں توانائی تنصیبات کو ہدف بنا سکتا ہے۔
کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اب بھی ایران کے ساتھ معاہدے کی امید ہے، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
