عامر خان کی تیسری شادی پر احتجاج، انتہا پسند مذہبی رہنما کی قتل پر انعام کی دھمکی
عامر خان کی تیسری شادی پر احتجاج، انتہا پسند مذہبی رہنما کی قتل پر انعام کی دھمکی
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ممبئی: بالی ووڈ اداکار عامر خان کی تیسری شادی کے بعد بعض انتہا پسند ہندو تنظیموں نے ان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہندو خواتین سے شادیوں کے حوالے سے الزامات عائد کیے، جبکہ ایک مذہبی رہنما کے اشتعال انگیز بیان نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے احتجاج کے دوران عامر خان کا پتلا نذرِ آتش کیا اور ان کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس دوران مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے نے بھی عامر خان کی ذاتی زندگی اور ان کی شادیوں پر تنقید کی۔
اسی دوران انتہا پسند ہندو مذہبی رہنما جگدگرو پرمہنس آچاریہ نے ایک متنازع بیان میں عامر خان کے قتل پر 5 کروڑ بھارتی روپے انعام دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو شخص اداکار کو قتل کرے گا، اسے یہ رقم دی جائے گی اور اس کے قانونی اخراجات بھی وہ خود برداشت کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق پرمہنس آچاریہ نے عامر خان کی ہندو خواتین سے شادیوں کو بنیاد بنا کر یہ اشتعال انگیز بیان دیا، جس کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
تاحال عامر خان یا ان کی ٹیم کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا، جبکہ یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ بھارتی پولیس نے مذکورہ دھمکی آمیز بیان پر کوئی قانونی کارروائی شروع کی ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ عامر خان نے 5 جولائی کو اپنی دیرینہ دوست گوری اسپرٹ سے سادہ تقریب میں شادی کی تھی۔ اس سے قبل وہ رینا دتہ اور کرن راؤ سے بھی شادی کر چکے ہیں۔
