’سلاتھ فیور‘ وائرس کے پھیلاؤ پر نئی تحقیق، لاکھوں افراد متاثر ہونے کا خدشہ
’سلاتھ فیور‘ وائرس کے پھیلاؤ پر نئی تحقیق، لاکھوں افراد متاثر ہونے کا خدشہ
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ مہلک اورپوچے وائرس بیماری، جسے عام طور پر ’’سلاتھ فیور‘‘ کہا جاتا ہے، پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر پھیل چکی ہے۔
یہ بیماری اچانک حملہ آور ہوتی ہے اور شدید بخار، جوڑوں کے درد اور پٹھوں کی شدید تکلیف کا باعث بنتی ہے، جس سے مریض سخت اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
سن 2023 میں برازیل اور دیگر لاطینی امریکی ممالک میں اس وائرس کے پھیلاؤ نے تشویش پیدا کر دی تھی، جہاں تیس ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
تاہم سائنسی جریدوں میں شائع ہونے والی نئی تحقیقات کے مطابق یہ وائرس سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ لوگوں کو متاثر کر چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق 1960 سے اب تک لاطینی امریکا اور کیریبین خطے میں تقریباً چورانوے لاکھ افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ صرف برازیل میں یہ تعداد پچپن لاکھ تک ہو سکتی ہے۔ یہ اندازے طویل مدتی ڈیٹا، خون کے عطیات کے ریکارڈ اور ریاضیاتی ماڈلز کی بنیاد پر لگائے گئے ہیں۔
تحقیق کے شریک مصنف جوز پرونسا موڈینا نے کہا کہ یہ بیماری ہماری سوچ سے کہیں زیادہ پھیل چکی ہے اور اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق ہر ہزار مریضوں میں سے ایک کو شدید پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں اعصابی مسائل، نومولود بچوں میں دماغ کی غیر معمولی چھوٹی نشوونما، اسقاطِ حمل اور جگر کی بیماریاں شامل ہیں۔
یہ وائرس بہت چھوٹے کاٹنے والے کیڑوں کے ذریعے پھیلتا ہے، جو عام مچھروں سے بھی کئی گنا چھوٹے ہوتے ہیں، اور ماہرین صحت کے مطابق یہ اب ایک اہم عالمی صحت کا چیلنج بن چکا ہے۔
