فیفا نے بیرونی سرمایہ کاری کی متنازع تجویز واپس لے لی
فیفا نے بیرونی سرمایہ کاری کی متنازع تجویز واپس لے لی
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے بیرونی سرمایہ کاروں کو حصہ فروخت کرنے سے متعلق متنازع تجویز واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔
فیفا نے چند روز قبل ایک نئی تجارتی کمپنی قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کا مقصد ورلڈ کپ سمیت فیفا کے بڑے ٹورنامنٹس کے تجارتی اور کاروباری معاملات کو منظم کرنا تھا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق فیفا کے صدر نے کہا کہ رکن ممالک اور مختلف فٹبال تنظیموں سے مشاورت کے بعد واضح ہوا کہ اس منصوبے پر شدید اختلافات موجود ہیں، اسی لیے اسے فی الحال واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
فیفا نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ بعض غلط میڈیا رپورٹس نے مشاورتی عمل کو متاثر کیا، جبکہ تنظیم تمام 211 رکن ممالک سے حقائق کی بنیاد پر رائے لینا چاہتی ہے۔ اعلامیے میں زور دیا گیا کہ "فٹبال فروخت نہیں ہو رہا، اور فیفا کبھی ایسا نہیں کرے گا۔”
رائٹرز کے مطابق فیفا نئے تجارتی یونٹ کا تقریباً 20 فیصد حصہ فروخت کرکے 4.2 ارب ڈالر حاصل کرنا چاہتا تھا، تاہم یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے اس منصوبے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دی تھی۔
منصوبے پر اختلافات اس وقت مزید نمایاں ہوئے جب فیفا کے ایک سینئر مشیر نے اسے "فٹبال کا سودا” قرار دیتے ہوئے استعفیٰ دے دیا، جبکہ چیف آپریٹنگ آفیسر نے بھی اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
فیفا کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبے کے تحت حاصل ہونے والی تجارتی آمدن تمام 211 رکن ممالک میں تقسیم کی جاتی اور ہر رکن ملک کو 2027 سے 2030 تک فیفا فارورڈ پروگرام کے تحت 2 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ فراہم کی جاتی۔ تنظیم نے یہ بھی واضح کیا کہ بیرونی سرمایہ کاری کی صورت میں بھی فیفا کا کنٹرول اور گورننس متاثر نہیں ہوتی۔
فیفا نے اعلان کیا ہے کہ اگر رکن ممالک کی اکثریت اس تجویز کی حمایت نہیں کرتی تو "فیفا فارورڈ انٹرپرائز” قائم نہیں کیا جائے گا، جبکہ منصوبے کی منظوری، ترمیم یا مسترد کرنے کا حتمی فیصلہ بھی تمام رکن ممالک سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
