مشرقِ وسطیٰ کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا؛ برینٹ 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا، ایران ثالثی کی خبروں پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق پیر کے روز برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں 2.37 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 90.19 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو ایک ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 2 فیصد سے زیادہ مہنگا ہو کر 84.20 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
ادھر برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ عمان کے علاقے کمزار کے شمال مغرب میں ایک بحری جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد سمندری نقل و حمل اور تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں خام تیل کی تقریباً 20 فیصد تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے، اس لیے اگر اس اہم گزرگاہ میں کشیدگی برقرار رہی یا تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید اضافہ اور توانائی کے نئے بحران کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ انہی دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی کس حد تک متاثر ہوتی ہے اور عالمی منڈیاں اس صورتِ حال پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان میں حالیہ نوٹیفکیشن کے تحت پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 5 روپے 44 پیسے اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 310 روپے 71 پیسے سے بڑھ کر 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی تھی۔ حکومت نے اس اضافے کو عارضی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ قیمتوں پر دوبارہ نظرثانی 20 جولائی کو کی جائے گی۔
