جولائی 16, 2026

کینسر کے علاج میں انقلابی پیش رفت؛ مینڈکوں کی آنتوں میں پائے جانے والے بیکٹیریا نے چوہوں میں بڑی آنت کا کینسر 100 فیصد ختم کر دیا

0
کینسر کے علاج میں انقلابی پیش رفت؛ مینڈکوں کی آنتوں میں پائے جانے والے بیکٹیریا نے چوہوں میں بڑی آنت کا کینسر 100 فیصد ختم کر دیا

کینسر کے علاج میں انقلابی پیش رفت؛ مینڈکوں کی آنتوں میں پائے جانے والے بیکٹیریا نے چوہوں میں بڑی آنت کا کینسر 100 فیصد ختم کر دیا

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ایک نئی اور حیرت انگیز سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ مینڈکوں اور دیگر ایمفیبیئنز (خشکی اور پانی دونوں میں رہنے والے جانداروں) کی آنتوں میں پایا جانے والا ایک خاص بیکٹیریا چوہوں میں بڑی آنت (کولون) کے کینسر کو مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تحقیق کا طریقہ کار اور جاپانی ماہرین کی کامیابی
جاپان ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (JAIST) کے محققین نے جاپانی درختی مینڈکوں، فائر بیلی نیوٹ (ایک قسم کا سلیمینڈر) اور گھاس میں رہنے والی چھپکلیوں کی آنتوں سے بیکٹیریا کی ۴۵ مختلف اقسام حاصل کیں۔

سائنسی جریدے ‘گٹ مائیکروبز’ (Gut Microbes) میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، ان ۴۵ اقسام میں سے ۹ اقسام نے کینسر کے خلاف مؤثر مزاحمت دکھائی۔ تاہم، ایونگیلا امیریکانا (Evangelia americana) نامی بیکٹیریا نے سب سے زیادہ شاندار اور حیران کن نتائج دیے۔ ماہرین نے اس بیکٹیریا کو الگ کر کے لیبارٹری میں اس کی افزائش کی اور اسے رگ (انٹراوینس انجیکشن) کے ذریعے کینسر کے شکار چوہوں کے جسم میں داخل کیا۔

100 فیصد کامیابی اور مدافعتی نظام کا متحرک ہونا
تحقیق کے نتائج انتہائی غیر معمولی رہے، جہاں اس بیکٹیریا کی صرف ایک ہی انجیکشن کے ذریعے دی گئی خوراک نے چوہوں میں موجود رسولیوں (ٹیمرز) کو مکمل طور پر ختم کر دیا، اور اس علاج میں کامیابی کی شرح سو فیصد رہی۔

محققین نے بتایا کہ یہ بیکٹیریا دوہرے طریقے سے کام کرتا ہے:

یہ براہِ راست کینسر کی رسولیوں پر حملہ کر کے انہیں نشانہ بناتا ہے۔

یہ چوہوں کے اپنے مدافعتی نظام (Immune System) کو اس حد تک متحرک اور بیدار کر دیتا ہے کہ جسم خود کینسر کے خلیات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے لگتا ہے۔

مستقبل کی امیدیں
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت کینسر تھراپی کی دنیا میں ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر مستقبل میں ہونے والی مزید تحقیقات اور انسانوں پر کلینیکل ٹرائلز (آزمائشیں) بھی اسی طرح کامیاب رہیں، تو یہ بیکٹیریا ایسے پیچیدہ اور ضدی کینسرز کے علاج کے لیے ایک نئی اور سستی امید بن کر سامنے آئے گا جن کا علاج موجودہ دور میں انتہائی مشکل یا ناممکن سمجھا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے