روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر مجوزہ امریکی ٹیرف میں بڑی کمی؛ ٹرمپ کو 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار دینے کا نیا بل پیش
روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر مجوزہ امریکی ٹیرف میں بڑی کمی؛ ٹرمپ کو 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار دینے کا نیا بل پیش
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)امریکی سینیٹرز نے روس پر پابندیاں مزید سخت کرنے کے لیے بل کا ایک نیا اور نرم مسودہ پیش کر دیا ہے، جس میں روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر مجوزہ ۵۰۰ فیصد ٹیرف کو نمایاں حد تک کم کر کے زیادہ سے زیادہ ۱۰۰ فیصد کر دیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اس اہم تبدیلی سے بھارت اور چین سمیت روسی تیل کے دیگر بڑے خریدار ممالک کو ایک بڑا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
صدر ٹرمپ کو حاصل ہونے والے اختیارات
نئے بل کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ قانونی اختیار حاصل ہو گا کہ وہ روسی تیل اور گیس کی خریداری جاری رکھنے والے ممالک پر ۱۰۰ فیصد تک ٹیرف (محصولات) عائد کر سکیں۔ اس قانون سازی کا بنیادی مقصد روس کی معیشت پر دباؤ بڑھا کر اسے یوکرین جنگ کے خاتمے پر مجبور کرنا ہے۔
پابندیوں کی زد میں آنے والے روسی شعبے
نئے مسودے میں روسی حکام، روس کے مرکزی بینک، مختلف مالیاتی اداروں، روسی ’شیڈو فلیٹ‘ ٹینکرز (جو غیر قانونی طور پر تیل کی نقل و حمل کرتے ہیں) اور بڑے سرکاری توانائی منصوبوں بالخصوص ایل این جی (LNG) اور آرکٹک ایل این جی ۱، ۲ اور ۳ پر بھی سخت پابندیاں عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
گیس خریداروں کے لیے استثنیٰ اور رعایتیں
رپورٹ کے مطابق، بل میں بعض ممالک کے لیے نرمی کا راستہ بھی رکھا گیا ہے۔ وہ ممالک جو روس کی مجموعی قدرتی گیس کا ۱۵ فیصد سے کم حصہ درآمد کرتے ہیں اور ساتھ ہی ان درآمدات کو بتدریج کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں، انہیں ان پابندیوں سے استثنیٰ مل سکتا ہے۔ اس رعایت سے جاپان، فرانس، ہنگری اور بیلجیئم جیسے ممالک کو براہِ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
روس سے توانائی خریدنے والے اہم ممالک
خام تیل کے بڑے خریدار: چین، بھارت، سلواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان۔
روسی گیس کے بڑے خریدار: چین، فرانس، جاپان، ہنگری اور بیلجیئم۔
بل میں نرمی کی وجہ اور ٹرمپ کا ردِعمل
امریکی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ بل میں مجوزہ ۵۰۰ فیصد ٹیرف کو کم کر کے ۱۰۰ فیصد کرنے کی نرمی کئی ماہ کی طویل مشاورت کے بعد کی گئی ہے تاکہ اس مسودے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مکمل حمایت حاصل ہو سکے۔ اس بل میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ اگر صدر مملکت اسے امریکی قومی مفاد کے خلاف سمجھیں تو وہ کسی بھی ملک کو ان پابندیوں سے استثنیٰ دے سکتے ہیں۔
دوسری جانب، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ بل جلد ہی منظور ہو کر قانون بن جائے گا، جبکہ بعض امریکی حلقوں کی جانب سے اس بل کے دائرہ کار میں ایران اور حزب اللہ سے متعلق مزید پابندیاں شامل کرنے کی تجاویز بھی دی جا رہی ہیں۔
