جولائی 14, 2026

دفتر میں کارکردگی میں مسلسل کمی ابتدائی ڈیمنشیا کی علامت ہو سکتی ہے، نئی تحقیق میں انکشاف

0
دفتر میں کارکردگی میں مسلسل کمی ابتدائی ڈیمنشیا کی علامت ہو سکتی ہے، نئی تحقیق میں انکشاف

دفتر میں کارکردگی میں مسلسل کمی ابتدائی ڈیمنشیا کی علامت ہو سکتی ہے، نئی تحقیق میں انکشاف

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ہیلسنکی: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کام کی جگہ پر کارکردگی میں مسلسل کمی اور پیداواری صلاحیت کا گھٹنا ابتدائی عمر کی ڈیمنشیا کی ممکنہ ابتدائی علامت ہو سکتی ہے، جو بیماری کی تشخیص سے کئی سال پہلے ظاہر ہو سکتی ہے۔

ابتدائی عمر کی ڈیمنشیا وہ کیفیت ہے جس میں یہ بیماری 65 برس کی عمر سے پہلے لاحق ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں یادداشت، ذہنی صلاحیت، جذباتی کیفیت اور پیشہ ورانہ زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کم عمر افراد میں اس بیماری کا شبہ کم کیا جاتا ہے، جس کے باعث تشخیص میں اکثر تاخیر ہو جاتی ہے۔

فن لینڈ کے محققین نے تقریباً 800 ابتدائی عمر کے ڈیمنشیا مریضوں اور 7 ہزار صحت مند افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے مطابق جن افراد میں بیماری کی تشخیص سے 15 برس پہلے علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئی تھیں، ان کی سالانہ آمدنی میں دیگر افراد کے مقابلے میں اوسطاً 13 ہزار 800 ڈالر تک کمی دیکھی گئی۔

مطالعے کے مطابق 12 سال کے عرصے میں متاثرہ افراد کو مجموعی طور پر تقریباً 86 ہزار ڈالر کی آمدنی کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

تحقیق کی سربراہی کرنے والے ماہرِ اعصاب ڈاکٹر اینو سولجے کے مطابق ابتدائی عمر کی ڈیمنشیا افراد کو ان کے سب سے زیادہ پیداواری دور میں متاثر کرتی ہے، جس سے کام کرنے کی صلاحیت میں کمی، بے روزگاری میں اضافہ اور وقت سے پہلے ملازمت چھوڑنے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کام کی کارکردگی میں غیر معمولی اور مسلسل کمی کو بروقت محسوس کیا جائے تو ابتدائی تشخیص، بہتر دیکھ بھال اور علاج کی منصوبہ بندی میں مدد مل سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے