چاکلیٹ سے جڑے دلچسپ حقائق، کوکو کے دانے کبھی کرنسی بھی رہے
چاکلیٹ سے جڑے دلچسپ حقائق، کوکو کے دانے کبھی کرنسی بھی رہے
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)چاکلیٹ دنیا بھر کی مقبول ترین غذاؤں میں شمار ہوتی ہے، تاہم اس کی تاریخ، تیاری اور خصوصیات سے متعلق کئی دلچسپ حقائق ایسے ہیں جن سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق قدیم تہذیبوں میں کوکو کے دانے کرنسی کے طور پر استعمال ہوتے تھے اور ان کے ذریعے خوراک، کپڑے اور دیگر اشیاء کی خرید و فروخت کی جاتی تھی۔ بعض مؤرخین کے مطابق 100 کوکو دانوں کے بدلے ایک ٹرکی خریدا جا سکتا تھا۔
ماہرین کے مطابق کوکو کے درخت کی پھلیاں شاخوں کے بجائے تنے اور موٹی شاخوں پر اگتی ہیں، جبکہ ہر پھلی میں عموماً 20 سے 60 دانے ہوتے ہیں۔ ایک عام چاکلیٹ بار تیار کرنے کے لیے تقریباً 400 کوکو دانے درکار ہوتے ہیں، جنہیں توڑنے، خمیر کرنے، خشک کرنے، بھوننے اور دیگر مراحل سے گزارنے کے بعد چاکلیٹ تیار کی جاتی ہے۔
چاکلیٹ انسانی جسم کے درجہ حرارت سے کم درجہ حرارت پر پگھلتی ہے، اسی لیے منہ میں جاتے ہی نرم اور کریمی محسوس ہوتی ہے۔ سفید چاکلیٹ میں کوکو بٹر، دودھ اور چینی شامل ہوتی ہے، تاہم اس میں کوکو کے ٹھوس اجزا موجود نہیں ہوتے، جس کے باعث اس کا رنگ اور ذائقہ عام چاکلیٹ سے مختلف ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چاکلیٹ میں 600 سے زائد قدرتی خوشبو والے مرکبات پائے جاتے ہیں، جو اسے میوؤں، پھولوں، کافی، مٹی اور دیگر مختلف ذائقوں اور مہکوں سے منفرد بناتے ہیں۔
تاریخی طور پر چاکلیٹ ابتدا میں کھائی نہیں بلکہ بطور مشروب استعمال کی جاتی تھی، جسے پسے ہوئے کوکو دانوں، پانی، مرچ اور مختلف جڑی بوٹیوں یا مصالحوں سے تیار کیا جاتا تھا اور اس کا ذائقہ نسبتاً کڑوا اور تیز ہوتا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی چاکلیٹ بار کا وزن 5 ہزار کلوگرام سے زائد تھا، جسے عالمی ریکارڈ قائم کرنے اور چاکلیٹ کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
