تحقیق: کھانے کے دوران زیادہ پانی پینا، زیادہ کھانا کھانے سے منسلک قرار
تحقیق: کھانے کے دوران زیادہ پانی پینا، زیادہ کھانا کھانے سے منسلک قرار
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کھانے کے دوران زیادہ پانی پینے والے افراد کم نہیں بلکہ نسبتاً زیادہ کھانا کھاتے ہیں۔
نیو یارک کی کارنیل یونیورسٹی اور پنسلوانیا کی پین اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے 86 بالغ افراد پر کیے گئے دو تجربات کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا، جس میں شرکا کو بیف چلی یا چکن تکہ مسالہ پانی کے ساتھ پیش کیا گیا اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق کھانے کی اجازت دی گئی۔ اس دوران ان کے کھانے اور پانی پینے کے انداز کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی گئی۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے پانی کے گھونٹوں کی تعداد، ہر گھونٹ کے حجم، پانی پینے کی رفتار اور کھانے کے لقموں اور پانی کے گھونٹوں کے درمیان ردوبدل کا جائزہ لیا۔
سائنسی جریدے ایپی ٹائٹ (Appetite) میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جن افراد نے زیادہ پانی پیا، انہوں نے اوسطاً زیادہ مقدار میں کھانا کھایا۔ نتائج کے مطابق ہر اضافی 100 گرام پانی پینے پر شرکا نے اوسطاً 39 گرام زیادہ خوراک کھائی، جو تقریباً 49 اضافی کیلوریز کے برابر ہے۔ اسی طرح لقموں اور پانی کے گھونٹوں کے درمیان جتنا زیادہ ردوبدل کیا گیا، اتنی ہی زیادہ خوراک استعمال کی گئی۔
محققین کے مطابق بار بار پانی پینے سے کھانے میں دلچسپی زیادہ دیر تک برقرار رہ سکتی ہے، جس سے لوگ زیادہ دیر تک کھاتے رہتے ہیں۔ تحقیق کی مرکزی مصنفہ، کارنیل یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر پیج کننگھم کا کہنا ہے کہ پانی کھانے کے ذائقے میں تازگی کا احساس پیدا کر سکتا ہے، جس سے کھانے کی رغبت برقرار رہتی ہے۔
ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ عام تصور کے برعکس پانی معدے سے تیزی سے خارج ہو جاتا ہے، اس لیے ضروری نہیں کہ وہ زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس برقرار رکھے۔ اس کے علاوہ پانی خوراک کو نگلنے میں آسانی فراہم کرتا ہے اور منہ کو خشک ہونے سے بچاتا ہے، جس کے باعث لوگ زیادہ مقدار میں کھانا کھا سکتے ہیں۔
تاہم سائنسدانوں نے واضح کیا کہ یہ تحقیق محدود تعداد میں شرکا پر کی گئی، اس لیے اس کے نتائج کو ہر قسم کے کھانوں یا ہر صورتحال پر حتمی طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، اور اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
