جولائی 25, 2026

نوجوان خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں 70 فیصد اضافہ، نئی تحقیق میں تشویشناک انکشاف

0
نوجوان خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں 70 فیصد اضافہ، نئی تحقیق میں تشویشناک انکشاف

نوجوان خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں 70 فیصد اضافہ، نئی تحقیق میں تشویشناک انکشاف

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)لندن کے معروف امپیریل کالج کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران 20 سے 29 سال کی عمر کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ اسی عمر کے مردوں میں یہ اضافہ 42 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

طبی جریدے لینسنٹ ریجنل ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق 2011 کے بعد 30 سال سے کم عمر خواتین کی کمر کا سائز دیگر تمام عمر کے گروپس کے مقابلے میں زیادہ بڑھا ہے، جبکہ ان کا اوسط باڈی ماس انڈیکس (BMI) موٹاپے کی خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے۔

محققین نے 2011 سے 2024 تک کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا، جس سے معلوم ہوا کہ 60 سے 79 سال کی عمر کے افراد میں ذیابیطس کی شرح میں کمی آئی، لیکن 20 سے 39 سال کے افراد میں اس بیماری کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

ماہرین کے مطابق خواتین دورانِ حمل اور دیگر طبی معائنوں کے باعث ڈاکٹروں سے زیادہ رابطے میں رہتی ہیں، جس کی وجہ سے ان میں ذیابیطس کی تشخیص نسبتاً جلد ہو جاتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر شیوانی مشرا نے خبردار کیا کہ 40 سال سے کم عمر افراد میں ٹائپ 2 ذیابیطس زیادہ جارحانہ ثابت ہو سکتی ہے اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں دل کی بیماری، فالج، بینائی سے محرومی اور اعضا کاٹنے جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے وزن کم کرنے والی ادویات کو اس مسئلے کا مکمل حل قرار دینے سے بھی گریز کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ایسے شواہد موجود نہیں جو ثابت کریں کہ ان ادویات کا وسیع پیمانے پر استعمال نوجوانوں کو ذیابیطس سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

ماہرین نے زور دیا ہے کہ نوجوانوں میں متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی کو ابتدائی عمر سے فروغ دینا ضروری ہے تاکہ ٹائپ 2 ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے