سعودی عرب پر حملہ ہوا تو مکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہوگا، پاکستان مدد کا پابند ہے: خواجہ آصف
سعودی عرب پر حملہ ہوا تو مکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہوگا، پاکستان مدد کا پابند ہے: خواجہ آصف
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یمن سے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہوگا۔
خواجہ آصف کے مطابق معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا، جبکہ تینوں ممالک ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند ہوں گے۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ یہ دوطرفہ نہیں بلکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدہ ہے، اس لیے اس کی شرائط تینوں رکن ممالک پر لاگو ہوں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت ہوتی ہے تو تینوں ممالک اس کا جواب دیں گے۔
خواجہ آصف کا یہ بیان سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
تاہم، معاہدے کے آپریشنل ہونے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ پاکستان نے فوری طور پر یمن کے خلاف فوجی کارروائی یا پاکستانی فوج بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کی عملی صورتِ حال کا انحصار حملے کی نوعیت اور معاہدے کے تحت کیے جانے والے فیصلوں پر ہوگا۔
