اگست 1, 2026

ہر فرد کے لیے وزن کم کرنا ذیابیطس سے تحفظ کی ضمانت نہیں، نئی تحقیق

0
ہر فرد کے لیے وزن کم کرنا ذیابیطس سے تحفظ کی ضمانت نہیں، نئی تحقیق

ہر فرد کے لیے وزن کم کرنا ذیابیطس سے تحفظ کی ضمانت نہیں، نئی تحقیق

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وزن کم کرنا ہر فرد میں ٹائپ ٹو ذیابیطس سے بچاؤ کی ضمانت نہیں، کیونکہ بعض زیادہ خطرے والے افراد میں وزن میں نمایاں کمی کے باوجود خون میں شوگر کی سطح بلند رہتی ہے اور انسولین بنانے کی صلاحیت مسلسل کم ہوتی جاتی ہے۔

تحقیق کے مطابق زیادہ خطرے والے "کلسٹر 5” سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے جسمانی وزن میں تقریباً 8 فیصد کمی کی اور اسے تقریباً 9 سال تک برقرار رکھا، تاہم اس کے باوجود ان میں خون میں شوگر کی سطح میں اضافہ، انسولین کی پیداوار میں کمی اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ برقرار رہا۔

ماہرین نے ٹیوبنگن طرزِ زندگی مداخلتی پروگرام کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا، جس میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے خطرے سے دوچار افراد نے دو سالہ طرزِ زندگی پروگرام میں حصہ لیا، جبکہ بعد ازاں تقریباً 9 سال تک ان کی صحت کی نگرانی کی گئی۔

تحقیق کے مرکزی مصنف پروفیسر نوربرٹ اسٹیفن کے مطابق طویل عرصے تک 8 فیصد وزن کم رکھنے کے باوجود بعض افراد میں خون میں شوگر بڑھنا، انسولین کی پیداوار میں کمی اور ذیابیطس کا زیادہ خطرہ برقرار رہنا حیران کن نتائج ہیں۔

طبی جریدے ڈائبٹیز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق چربی والا جگر (فیٹی لیور) اور انسولین کے خلاف جسم کی مزاحمت ان افراد میں بیماری کے بنیادی عوامل ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ تحقیقات بھی ان نتائج کی تصدیق کرتی ہیں تو ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے ہر فرد کی حیاتیاتی کیفیت کے مطابق ذاتی نوعیت کی حکمتِ عملی اور زیادہ مؤثر علاج اپنانے کی ضرورت ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے