جولائی 27, 2026

الزائمر کے علاج میں عام دوا امید کی نئی کرن بن گئی

0
الزائمر کے علاج میں عام دوا امید کی نئی کرن بن گئی

الزائمر کے علاج میں عام دوا امید کی نئی کرن بن گئی

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)طبی محققین کا کہنا ہے کہ ذہنی امراض، خصوصاً دو قطبی کیفیت اور شدید افسردگی کے علاج میں استعمال ہونے والی ایک عام اور کم قیمت دوا الزائمر کے مریضوں کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

طبی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی گزشتہ تحقیق کے مطابق الزائمر کے مریضوں کے دماغ میں لیتھیم کی مقدار عام افراد کے مقابلے میں کم پائی گئی۔

تحقیق کے دوران الزائمر سے متاثرہ چوہوں کو لیتھیم کی معمولی مقدار دی گئی، جس کے نتیجے میں ان کی یادداشت میں بہتری اور دماغی خلیات کو پہنچنے والے نقصان میں کمی دیکھی گئی۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ دوا یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت سے متعلق دماغی خلیات کو تحفظ فراہم کرنے اور دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ایک اور طبی جریدے میں شائع ہونے والے مقالے میں ماہرین نے زور دیا ہے کہ الزائمر کے ابتدائی مرحلے کے مریضوں میں اس دوا کی کم مقدار کے استعمال پر مزید تفصیلی تحقیق کی جائے۔

دوسری جانب الزائمر سوسائٹی کے تحقیقاتی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر رچرڈ اوکلے نے محتاط انداز میں کہا کہ یہ تحقیق امید افزا ضرور ہے، لیکن ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ دوا الزائمر یا یادداشت کی کمزوری کے مرض کا مؤثر علاج یا مکمل بچاؤ فراہم کر سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی سطح پر ہونے والی ابتدائی آزمائشیں محدود ہیں، اس لیے حتمی نتائج تک پہنچنے کے لیے مزید تحقیق ناگزیر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے