دھنوش کی فلاحی اپیل کے بعد سیاست میں آنے کی قیاس آرائیاں تیز
دھنوش کی فلاحی اپیل کے بعد سیاست میں آنے کی قیاس آرائیاں تیز
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)اداکار، ہدایت کار اور گلوکار دھنوش نے اپنے مداحوں کے کلب کے زیرِ اہتمام منعقدہ خون عطیہ کرنے کی مہم کے دوران مداحوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے اتحاد کو صرف فلموں کی نمائش یا موسیقی کی تقریبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے عوامی فلاح و بہبود کے لیے بھی استعمال کریں۔
خطاب کرتے ہوئے دھنوش نے کہا کہ ایک جگہ بڑی تعداد میں لوگوں کا جمع ہونا ایک بڑی طاقت ہے، اس لیے اس اتحاد کو معاشرے کی خدمت اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد کے لیے بروئے کار لایا جانا چاہیے۔
انہوں نے اپنے مداحوں پر زور دیا کہ وہ اپنے علاقوں میں مستحق افراد کی مدد کریں، تاکہ انہیں اپنے مداحوں پر مزید فخر ہو۔
دھنوش کے اس بیان کے بعد سماجی رابطوں کی ویب گاہوں پر بعض صارفین نے ان کی تقریر کا موازنہ اداکار وجے کے سیاست میں آنے سے قبل دیے گئے بیانات سے کرنا شروع کر دیا۔ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ دھنوش کی گفتگو اور عوامی خدمت پر زور دینا وجے کی سابقہ حکمتِ عملی سے مشابہت رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جون میں دھنوش کے والد اور فلم ساز کستوری راجہ نے بھی ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اگر دھنوش سیاسی جماعت بنانا چاہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔
