جون 15, 2026

مائیگرین کی نئی دوا حمل کے ابتدائی مرحلے میں خطرناک قرار، اسقاط حمل کے خطرات بڑھنے کا انکشاف

0
مائیگرین کی نئی دوا حمل کے ابتدائی مرحلے میں خطرناک قرار، اسقاط حمل کے خطرات بڑھنے کا انکشاف

مائیگرین کی نئی دوا حمل کے ابتدائی مرحلے میں خطرناک قرار، اسقاط حمل کے خطرات بڑھنے کا انکشاف

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مائیگرین کے علاج میں استعمال ہونے والی مخصوص ادویات حمل کے ابتدائی مہینوں میں حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہیں۔

یہ ادویات CGRP monoclonal antibodies (کیلسیٹونن جین-ریلیٹڈ پیپٹائیڈ اینٹی باڈیز) کہلاتی ہیں، جو انجیکشن کی صورت میں دی جاتی ہیں اور مائیگرین کے تقریباً 50 فیصد مریضوں میں حملوں کی روک تھام میں مؤثر سمجھی جاتی ہیں، اسی وجہ سے بعض ماہرین انہیں “ونڈر ڈرگ” بھی قرار دیتے ہیں۔

تاہم حال ہی میں American Headache Society کی سالانہ میٹنگ میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق اگر یہ ادویات حمل کے ابتدائی 8 سے 12 ہفتوں میں استعمال کی جائیں تو اسقاط حمل (miscarriage) کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

تحقیق میں 15 سے 45 سال کی 7119 خواتین اور ان کے 7579 حملوں کا ڈیٹا شامل کیا گیا، جن میں تمام خواتین کو پہلے سے مائیگرین کی تشخیص ہو چکی تھی۔ محققین نے شرکاء کو تین گروپوں میں تقسیم کیا: سی جی آر پی ادویات استعمال کرنے والی خواتین، پروپرینولول استعمال کرنے والی خواتین، اور وہ جو کوئی دوا استعمال نہیں کر رہی تھیں۔

نتائج کے مطابق پروپرینولول استعمال کرنے والی خواتین میں حمل ضائع ہونے کی شرح تقریباً 2 فیصد رہی، جبکہ سی جی آر پی ادویات استعمال کرنے والی خواتین میں یہ شرح 5 فیصد تک ریکارڈ کی گئی، جو دیگر گروپوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ نتائج ابتدائی نوعیت کے ہیں، تاہم حمل کے دوران ان ادویات کے استعمال سے قبل احتیاط اور ڈاکٹر سے مشاورت ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Jaxx Wallet Download

Jaxx Liberty Wallet

Jaxx Wallet

gem visa login

gem visa login australia