امریکا اور چین کا تاریخی اتفاق: آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ٹیکس لگانے کی مخالفت
امریکا اور چین کا تاریخی اتفاق: آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ٹیکس لگانے کی مخالفت
اسلام آباد(پاکستانی نیوز)امریکا اور چین نے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اس بات پر اصولی اتفاق کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسی حساس اور اہم عالمی آبی گزرگاہوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کسی بھی ملک یا تنظیم کو ٹیکس یا ٹول (Toll) عائد کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
اہم تفصیلات:
محکمہ خارجہ کی تصدیق: رائٹرز کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ دونوں عالمی قوتیں اس معاملے پر مکمل طور پر ایک پیج پر ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل (Energy Supply) کو خطرات لاحق ہیں۔
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات: یہ اہم بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بیجنگ کے دوسرے روز سامنے آیا ہے۔ اب سے کچھ ہی دیر بعد دونوں صدور کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوگی، جس میں ایران کی صورتحال، آبنائے ہرمز کی حفاظت اور تائیوان جیسے حساس معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
اقتصادی و تجارتی پہلو: صدر ٹرمپ کے ہمراہ امریکی بزنس لیڈرز کا ایک بڑا وفد بھی موجود ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس دورے کا ایک بڑا مقصد باہمی تجارت کو فروغ دینا اور عالمی منڈیوں میں استحکام لانا ہے۔
آبنائے ہرمز کی سٹریٹجک اہمیت:
آبنائے ہرمز دنیا کی وہ کلیدی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی پیٹرولیم کا بڑا حصہ منتقل ہوتا ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان اس بات پر اتفاق کہ اس راستے کو بلا روک ٹوک اور ٹیکس سے پاک ہونا چاہیے، عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں میں استحکام کے لیے ایک انتہائی مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
