اجازت کے بغیر تصاویر شیئر ہونا پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے: عائشہ عمر
اجازت کے بغیر تصاویر شیئر ہونا پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے: عائشہ عمر
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ماڈل عائشہ عمر نے کئی برس بعد اپنے ساحلی چھٹیوں کے دوران سامنے آنے والی تصاویر کے تنازع پر کھل کر بات کی ہے اور کہا ہے کہ یہ تصاویر ان کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں۔
بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں عائشہ عمر نے بتایا کہ وہ اپنی قریبی دوست اور اداکارہ ماریہ وسطی کے ساتھ تھائی لینڈ میں چھٹیاں گزار رہی تھیں جب ان کی نجی تصاویر لیک ہو گئیں۔
اداکارہ کے مطابق ان تصاویر میں وہ مختلف انداز میں نظر آ رہی تھیں، جن میں ساحلی لباس اور گرمیوں کے معمول کے کپڑے شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کے اثرات ان کے پیشہ ورانہ کیریئر پر بھی پڑے۔
عائشہ عمر نے کہا کہ اس وقت شوبز انڈسٹری میں بعض حلقے خواتین کے بارے میں ایک مخصوص سماجی تاثر کو اہمیت دیتے تھے، جس کے باعث انہیں کچھ مواقع سے بھی محروم ہونا پڑا۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کی نجی تصاویر کو اجازت کے بغیر شیئر کرنا پرائیویسی اور رضامندی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق اسی تجربے کے بعد وہ ایک غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ مل کر نجی ڈیٹا اور تصاویر کے غلط استعمال کے خلاف آگاہی مہم میں حصہ لے رہی ہیں۔
اداکارہ نے کہا کہ کئی سال بعد اس موضوع پر بات کرنے کا مقصد صرف اپنی کہانی بیان کرنا نہیں بلکہ عوام میں یہ شعور اجاگر کرنا ہے کہ کسی کی نجی معلومات یا تصاویر کو بغیر اجازت پھیلانا ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔
