ایران جنگ: امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کی رپورٹس پر ٹرمپ برہم، میڈیا کو ’غدار گندگی‘ قرار دے دیا
ایران جنگ: امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کی رپورٹس پر ٹرمپ برہم، میڈیا کو ’غدار گندگی‘ قرار دے دیا
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی سے متعلق میڈیا رپورٹس پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے ناقد صحافتی اداروں کو ’غدار گندگی‘ قرار دے دیا۔
ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج پہلے سے کہیں زیادہ ہتھیار تیار کر رہی ہے اور امریکا کے پاس اتنے ہتھیار موجود ہیں جو کبھی استعمال بھی نہیں کیے جا سکتے۔
صدر ٹرمپ نے ایران جنگ کے دوران امریکی دفاعی اور حملہ آور ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کی خبریں دینے والے میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ متعدد ادارے جنگ کی صورتِ حال درست انداز میں رپورٹ نہیں کر رہے۔
اس سے قبل اگست میں بھی ٹرمپ امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی سے متعلق رپورٹس پر برہمی کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حساس معلومات میڈیا تک پہنچانے والے افراد کا سراغ لگایا جائے گا اور انہیں طویل قید کی سزائیں دلانے کی کوشش کی جائے گی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی فوج کے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کے ذخائر پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔ خاص طور پر پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل دفاعی نظام متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ٹوماہاک، جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل اور پریسیژن اسٹرائیک میزائل سمیت متعدد حملہ آور ہتھیار بھی بڑی تعداد میں استعمال کیے گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے دفاعی کمپنیوں کے ساتھ پیداوار تیز کرنے کے لیے نئے معاہدوں کے باوجود اہم ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ مطلوبہ سطح پر لانے میں کم از کم دو سال لگ سکتے ہیں۔
دوسری جانب آزادیٔ صحافت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ٹرمپ کے میڈیا سے متعلق اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنقیدی رپورٹنگ کرنے والے اداروں اور صحافیوں کے خلاف حکومتی دباؤ آزادیٔ صحافت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
