جولائی 17, 2026

الٹرا پروسیسڈ غذائیں دل کے امراض اور اموات کا بڑا سبب بن سکتی ہیں، نئی تحقیق

0
الٹرا پروسیسڈ غذائیں دل کے امراض اور اموات کا بڑا سبب بن سکتی ہیں، نئی تحقیق

الٹرا پروسیسڈ غذائیں دل کے امراض اور اموات کا بڑا سبب بن سکتی ہیں، نئی تحقیق

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال دل کی بیماریوں اور ان سے ہونے والی تقریباً ایک چوتھائی اموات سے منسلک ہو سکتا ہے۔

امریکن جرنل آف پریونٹیو میڈیسن میں شائع ہونے والی اور میکسیکو میں منعقدہ انٹرنیشنل کانگریس آف اوبیسٹی میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق اگر لوگ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا استعمال کم کر دیں تو دل کے امراض سے ہونے والی اموات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ ماضی کی متعدد تحقیقات بھی الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے صحت پر منفی اثرات کی نشاندہی کر چکی ہیں، تاہم اس بات پر اب بھی بحث جاری ہے کہ ان نقصانات میں خود پروسیسنگ کا کتنا کردار ہے اور کتنا ان غذاؤں میں موجود زیادہ چکنائی، چینی اور نمک کا۔

الٹرا پروسیسڈ غذاؤں میں آئس کریم، پروسیسڈ گوشت، چپس، فیکٹری میں تیار کی جانے والی ڈبل روٹی، ناشتے کے سیریئلز، بسکٹ، تیار شدہ کھانے (ریڈی میڈ) اور کاربونیٹیڈ مشروبات شامل ہیں۔

تحقیق کے مطابق برطانیہ میں روزانہ حاصل کی جانے والی مجموعی کیلوریز کا تقریباً 56 فیصد حصہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ نوعمروں میں یہ شرح 68 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

تجزیے سے معلوم ہوا کہ 2019ء میں دل کے دورے اور فالج کے 23 سے 38 فیصد واقعات الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے استعمال سے منسلک تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان غذاؤں کے استعمال میں 20 سے 50 فیصد تک کمی کر دی جائے تو تقریباً 46 ہزار دل کے امراض کے کیسز اور 8 ہزار سے زائد اموات سے بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔

تحقیق میں سفارش کی گئی ہے کہ دل کی بیماریوں کی روک تھام کے لیے الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے استعمال میں کمی کو قومی صحت کی پالیسی کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے