ماہرین نے صحت کے لیے مفید 6 سپلیمنٹس بتا دیے، مگر احتیاط بھی ضروری قرار
ماہرین نے صحت کے لیے مفید 6 سپلیمنٹس بتا دیے، مگر احتیاط بھی ضروری قرار
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)طبی ماہرین کے مطابق بعض سپلیمنٹس سائنسی تحقیق کی بنیاد پر صحت کے لیے مفید ثابت ہوئے ہیں، تاہم انہیں صرف ضرورت اور ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سپلیمنٹس متوازن غذا کا متبادل نہیں بلکہ غذائی کمی پوری کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔
ماہرین نے 6 ایسے سپلیمنٹس کی نشاندہی کی ہے جو درست استعمال کی صورت میں فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
میگنیشیئم: بہتر نیند، قبض، سر درد اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مددگار سمجھا جاتا ہے، جبکہ میگنیشیئم گلائسینیٹ اور سائٹریٹ نسبتاً بہتر جذب ہونے والی اقسام ہیں۔
وٹامن بی 12: سبزی خور افراد، معمر افراد اور شوگر یا معدے کی بعض ادویات طویل عرصے تک استعمال کرنے والوں میں اس وٹامن کی کمی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے باقاعدہ جانچ کی سفارش کی جاتی ہے۔
وٹامن ڈی: ہڈیوں، پٹھوں اور مدافعتی نظام کی صحت کے لیے اہم ہے، جبکہ دنیا بھر میں اس کی کمی عام پائی جاتی ہے۔
اومیگا 3: اگر خوراک میں چکنائی والی مچھلی شامل نہ ہو تو یہ سپلیمنٹ بعض افراد میں خون میں چکنائی کی مخصوص قسم کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
کریئیٹین مونوہائیڈریٹ: ورزش کرنے والے افراد، خصوصاً 50 سال سے کم عمر افراد میں جسمانی طاقت بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
اسپغول کا چھلکا: روزانہ مناسب مقدار میں استعمال سے مضر کولیسٹرول کم کرنے، قبض سے نجات دلانے اور آنتوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ سپلیمنٹس کو صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش اور متوازن طرزِ زندگی کا متبادل نہ سمجھا جائے، بلکہ انہیں صرف حقیقی غذائی کمی کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کیا جائے۔
