بچپن میں میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے: تحقیق
بچپن میں میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے: تحقیق
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)نیویارک: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بچپن میں پھلوں کے جوس، سافٹ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال جوانی اور ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔
امیریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں 25 سال تک 9 سے 16 سال عمر کے 25 ہزار سے زائد امریکی افراد کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق جو بچے روزانہ 12 اونس (تقریباً 355 ملی لیٹر) کے دو یا اس سے زیادہ میٹھے مشروبات استعمال کرتے تھے، ان میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ اُن افراد کے مقابلے میں 52 فیصد زیادہ پایا گیا جو ہفتے میں تین سے کم بار ایسے مشروبات لیتے تھے۔
تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر ایک ایسی کیفیت ہے جس میں خون کی شریانوں پر دباؤ معمول سے بڑھ جاتا ہے، جس سے دل، گردوں کی بیماریوں، فالج اور یادداشت کی خرابی جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
امیریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق صرف امریکہ میں 12 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔
ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ سے وابستہ ماہر وسانتی ملک نے کہا کہ زندگی کے ابتدائی برسوں میں اپنائی گئی غذائی عادات صحت پر دیرپا اثر ڈالتی ہیں۔ ان کے مطابق آج کے دور میں نوجوانوں اور بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے اس کی بروقت روک تھام اور تشخیص کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
