ایران کا متاثرہ جوہری مراکز کے معائنے سے انکار
ایران کا متاثرہ جوہری مراکز کے معائنے سے انکار
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)تہران: ایران نے حالیہ حملوں سے متاثر ہونے والی اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ فردو، نطنز اور اصفہان سمیت ان جوہری مراکز تک کسی بیرونی معائنہ کار ٹیم کو رسائی نہیں دی جائے گی جنہیں حالیہ حملوں میں نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں ان حساس مقامات پر غیر ملکی عملے کی آمد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسماعیل بقائی نے ان خبروں کی بھی تردید کی جن میں ان کی عالمی جوہری نگرانی کے ادارے کے سربراہ سے ملاقات کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جوہری تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضامند ہو چکا ہے اور مذاکرات میں پیش رفت اسی آمادگی کا نتیجہ ہے۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر بحری ناکہ بندی کے لیے امریکی افواج پہلے سے موجود ہیں، تاہم فی الحال ایسی صورتحال کا امکان کم ہے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی نگرانی امریکی بینکاری نظام کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔
ایران کی جانب سے معائنے کی اجازت نہ دینے کے اعلان کے بعد جوہری پروگرام اور خطے کی صورتحال سے متعلق بین الاقوامی سطح پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
