نئی تحقیق: کم کیلوری میٹھا سوربیٹول بعض حالات میں فیٹی لیور کے خطرے سے منسلک
نئی تحقیق: کم کیلوری میٹھا سوربیٹول بعض حالات میں فیٹی لیور کے خطرے سے منسلک
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سوربیٹول، جو کم کیلوری والے میٹھے کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے، بعض مخصوص حالات میں فیٹی لیور کی بیماری کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔
سوربیٹول عام طور پر شوگر فری ٹافیوں، چیونگ گم، پروٹین بارز اور کم چینی والی دیگر غذاؤں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ قدرتی طور پر بعض پھلوں اور سبزیوں، خصوصاً آڑو، خوبانی اور آلو بخارے جیسے اسٹون فروٹس میں بھی پایا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق میٹابولک ڈسفنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیوٹک لیور ڈیزیز (MASLD)، جسے پہلے نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز (NAFLD) کہا جاتا تھا، موٹاپے، ذیابیطس اور دیگر میٹابولک مسائل سے جڑی ایک عام جگر کی بیماری ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیماری دنیا بھر میں تقریباً 30 فیصد بالغ افراد کو متاثر کرتی ہے۔
امریکا کی Washington University in St. Louis کے سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ اگر آنتوں میں موجود وہ مفید بیکٹیریا، جو سوربیٹول کو توڑتے ہیں، کم ہو جائیں یا مؤثر طریقے سے کام نہ کریں تو سوربیٹول جگر میں جا کر فرکٹوز میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق فرکٹوز پہلے ہی فیٹی لیور کی تشکیل میں ایک اہم عنصر کے طور پر جانا جاتا ہے، اس لیے سوربیٹول کا یہ ممکنہ تبدیلی کا عمل بعض افراد میں بیماری کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
تحقیق کے نتائج اس عام تصور کو بھی چیلنج کرتے ہیں کہ شوگر الکوحل جسم سے بغیر کسی خاص اثر کے خارج ہو جاتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سوربیٹول کو مکمل طور پر غیر مؤثر سمجھنا درست نہیں، کیونکہ اس کے اثرات آنتوں کے مائیکروبایوم اور جسمانی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے Science Signaling میں شائع ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ سوربیٹول تمام افراد کے لیے نقصان دہ ہے، تاہم یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کم کیلوری والے میٹھوں کے صحت پر اثرات کو مزید گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
