وزن کم کرنے والی ادویات سے متعلق اہم پیشرفت، سائنس دانوں نے نیا راز دریافت کرلیا
وزن کم کرنے والی ادویات سے متعلق اہم پیشرفت، سائنس دانوں نے نیا راز دریافت کرلیا
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے محققین نے وزن کم کرنے والی مشہور ادویات، جنہیں جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگونسٹس کہا جاتا ہے، کے دماغی خلیوں کے اندر کام کرنے کے طریقہ کار سے متعلق اہم نئی معلومات حاصل کر لی ہیں۔
تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ مختلف مریض ان ادویات پر مختلف ردِعمل کیوں دیتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کے اثرات اکثر کیوں کم ہونے لگتے ہیں۔
چوہوں پر کی جانے والی اس تحقیق میں سائنس دانوں نے سیماگلوٹائڈ نامی دوا کے دماغی خلیوں کے اندر ہونے والے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ یہ دوا دنیا بھر میں مٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے علاج کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کی جا رہی ہے۔
ماہرین نے اعصابی خلیوں کے اندر ایسے اہم سگنلز اور کیمیائی سرگرمیوں کی نشاندہی کی جو بظاہر وزن کم کرنے میں اس دوا کے اصل ’’پاور ہاؤس‘‘ کا کردار ادا کرتی ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں زیادہ مؤثر ادویات تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہے جبکہ موجودہ جی ایل پی-1 دواؤں کے فوائد کو مزید بہتر بنانے کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔
اب تک ماہرین یہ تو جانتے تھے کہ جی ایل پی-1 ادویات دماغ کے اُن حصوں پر اثر انداز ہوتی ہیں جو بھوک کو کنٹرول کرتے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ دوا کے اثرات شروع ہونے کے بعد دماغی خلیوں کے اندر اصل میں کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
تحقیق کے شریک مصنف اینڈریو لوٹسکا نے کہا کہ اب تک ہمیں اس بات کی بہت کم سمجھ تھی کہ یہ ادویات جن نیورونز کو نشانہ بناتی ہیں، اُن کے اندر اصل میکانزم کیسے کام کرتا ہے۔ ان باریکیوں کا مطالعہ کرکے اب ہم ان اہم سوالات کے جواب حاصل کرنا شروع ہو گئے ہیں۔
