مئی 14, 2026

آئی ایم ایف کا بجٹ مذاکرات میں سخت مؤقف، 400 ارب سے زائد نئے ٹیکس اقدامات زیر غور

0
آئی ایم ایف کا بجٹ مذاکرات میں سخت مؤقف، 400 ارب سے زائد نئے ٹیکس اقدامات زیر غور

آئی ایم ایف کا بجٹ مذاکرات میں سخت مؤقف، 400 ارب سے زائد نئے ٹیکس اقدامات زیر غور

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مالیاتی حکام نے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ تفصیلی معاشی ڈیٹا شیئر کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں 400 ارب روپے سے زائد کے اضافی ٹیکس اقدامات زیر غور ہیں، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو بجٹ سازی میں کلیدی کردار دے دیا گیا ہے۔ ان کی سربراہی میں قائم کمیٹی ٹیکس تجاویز اور مالیاتی پالیسی سفارشات کو حتمی شکل دے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے زرعی آمدن پر مؤثر ٹیکس وصولی تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے 683 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ آئندہ مالی سال میں چاروں صوبوں کی جانب سے زرعی آمدن پر مکمل ٹیکس نفاذ کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

بریفنگ کے دوران آئی ایم ایف وفد کو بتایا گیا کہ 4.2 فیصد معاشی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ 13 ہزار 989 ارب روپے کا نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف بھی خطرے میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے