ٹرمپ: ایران کو اس وقت کون چلا رہا ہے، واشنگٹن کو اس کا واضح علم نہیں
ٹرمپ: ایران کو اس وقت کون چلا رہا ہے، واشنگٹن کو اس کا واضح علم نہیں
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران واشنگٹن کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے واضح طور پر معلوم نہیں کہ اس وقت ایران میں فیصلہ سازی کون کر رہا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے متعدد اعلیٰ رہنما مارے جا چکے ہیں، جبکہ موجودہ قیادت کے بارے میں بھی صورتحال واضح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی اب مذاکرات اور جنگ سے متعلق فیصلوں کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے تیار ہے، تاہم تہران کو اپنے جوہری پروگرام پر لچک دکھانا ہوگی اور یورینیم افزودگی کی صلاحیت کم کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق صرف مستقبل میں جوہری سرگرمیاں محدود کرنے کی یقین دہانی کافی نہیں ہوگی۔
وینس نے سوال اٹھایا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا تو اسے 60 فیصد تک افزودہ ایندھن کی ضرورت کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے انتہائی افزودہ ایندھن کی تیاری سے گریز کرنا چاہیے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی نائب صدر کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران میں ان کے ہم منصب کون ہیں اور ملک میں فیصلہ سازی کا نظام کیسے کام کرتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی معیشت اور تیل کی صورتحال شدید دباؤ میں ہے، جبکہ ان کے مطابق تیل کی ترسیل اس سطح پر جاری ہے جو جنگ سے پہلے کی سطح کے برابر ہے۔
