امریکی پابندیوں کے بعد ایران کا تیل برآمد کرنے کے لیے ریل پر انحصار، چین تک 10,400 کلومیٹر زمینی کوریڈور
امریکی پابندیوں کے بعد ایران کا تیل برآمد کرنے کے لیے ریل پر انحصار، چین تک 10,400 کلومیٹر زمینی کوریڈور
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)تہران: امریکی پابندیوں اور سمندری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث ایران نے تیل کی برآمدات کے لیے ریل کے راستے پر انحصار بڑھانا شروع کردیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق ایران کی سمندری تیل برآمدات تقریباً 21 لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہو کر 5 لاکھ 67 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی ہیں، جس کے بعد تہران متبادل زمینی راستے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران تقریباً 10,400 کلومیٹر طویل ریلوے کوریڈور کے ذریعے تیل چین کے مختلف شہروں تک پہنچانے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس میں تقریباً 15 دن لگ سکتے ہیں۔ ایران پریشرائزڈ آئل ٹینکر ریل کارز کی تعداد بڑھانے کے ساتھ پرانے ذخیرہ مراکز بھی دوبارہ فعال کر رہا ہے تاکہ تیل کی ترسیل کا سلسلہ برقرار رکھا جاسکے۔
تاہم ریل کے ذریعے تیل کی ترسیل سمندری راستے کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہے۔ اندازوں کے مطابق ریل کے ذریعے ایک بیرل تیل کی ترسیل پر تقریباً 15 ڈالر لاگت آتی ہے، جبکہ سمندری راستے سے یہی لاگت تقریباً 5 ڈالر فی بیرل بتائی جاتی ہے۔
