تحقیق: انڈے کی زردی اور سرخ گوشت دل کی خطرناک بے قاعدہ دھڑکن کے خطرے سے منسلک
تحقیق: انڈے کی زردی اور سرخ گوشت دل کی خطرناک بے قاعدہ دھڑکن کے خطرے سے منسلک
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انڈے کی زردی، سرخ گوشت اور بعض دیگر غذاؤں کے استعمال سے جسم میں بننے والا ایک مرکب دل کی خطرناک بے قاعدہ دھڑکن، ایٹریل فبریلیشن، کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں فالج اور دل کی کمزوری کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔
جرنل آف کلینیکل انویسٹیگیشن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے تقریباً 5 ہزار افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کے خون میں ٹرائی میتھائل امائن این آکسائیڈ (TMAO) کی مقدار زیادہ تھی، ان میں ایٹریل فبریلیشن کا خطرہ کم مقدار رکھنے والوں کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد زیادہ تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ مرکب اس وقت بنتا ہے جب جسم کولین اور کارنیٹین جیسے غذائی اجزاء کو ہضم کرتا ہے، جو انڈے کی زردی، بیف اسٹیک اور کلیجی سمیت بعض غذاؤں میں پائے جاتے ہیں۔
تحقیق کے سینئر مصنف اور کلیولینڈ کلینک کے ماہر ڈاکٹر رابرٹ کوئتھ کا کہنا ہے کہ موجودہ علاج بیماری کو قابو میں رکھنے پر مرکوز ہیں، تاہم نئی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مناسب غذائی عادات اختیار کرکے ایٹریل فبریلیشن کے آغاز کو روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے علاج کی تیاری ممکن ہو سکتی ہے جو آنتوں کے بیکٹیریا کو TMAO بنانے سے روک کر دل کی اس بیماری کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں۔
