روزانہ سلاد کھانے کی عادت نے صحت میں نمایاں بہتری لائی، بھارتی انفلوئنسر کا دعویٰ
روزانہ سلاد کھانے کی عادت نے صحت میں نمایاں بہتری لائی، بھارتی انفلوئنسر کا دعویٰ
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ہارمونز کی خرابی کے عارضے (پی سی او ایس) میں مبتلا ایک بھارتی انفلوئنسر نے صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کے لیے مسلسل دو ماہ تک روزانہ دوپہر کے کھانے میں سلاد کھانے کا معمول اختیار کیا اور اس کے نتائج سوشل میڈیا پر شیئر کیے۔
انفلوئنسر کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایک ایسی صحت مند عادت اپنانا تھا جس پر مستقل مزاجی سے عمل کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے سلاد میں صرف پتوں والی سبزیاں ہی نہیں بلکہ ثابت مونگ دال، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، چنے، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم سمیت مختلف غذائیت سے بھرپور اجزا شامل ہوتے تھے۔ ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں یا سرکہ جبکہ پروٹین کے لیے گرل کیا ہوا پنیر یا سویا استعمال کیا جاتا تھا۔
انفلوئنسر کے مطابق تقریباً 20 دن تک ایک ہی قسم کا سلاد کھانے کے بعد اکتاہٹ محسوس ہوئی، جس کے بعد مختلف اجزا اور ذائقوں کے ذریعے اس معمول کو دلچسپ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پی سی او ایس کے باعث وہ یقین سے نہیں کہہ سکتیں کہ ان کا وزن کم ہوا، تاہم انہیں واضح طور پر بھوک میں کمی، غیر ضروری کھانے کی خواہش میں کمی اور زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس ہوا۔
ان کے مطابق دوپہر کے کھانے کے بعد سستی میں کمی، توانائی میں اضافہ، جسمانی تناسب میں بہتری اور کپڑوں کی فٹنگ میں مثبت فرق بھی بتدریج محسوس ہوا۔
