جولائی 12, 2026

روزانہ کافی پینے سے جگر کی بیماریوں اور سرطان کا خطرہ کم ہو سکتا ہے، نئی تحقیق

0
روزانہ کافی پینے سے جگر کی بیماریوں اور سرطان کا خطرہ کم ہو سکتا ہے، نئی تحقیق

روزانہ کافی پینے سے جگر کی بیماریوں اور سرطان کا خطرہ کم ہو سکتا ہے، نئی تحقیق

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ کافی پینے سے جگر کی سنگین بیماریوں، جگر کے سرطان اور جگر سے متعلق اموات کے خطرات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، تاہم ماہرین نے اس حوالے سے احتیاط برتنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔

طبی جریدے "کلینیکل گیسٹرو اینٹرولوجی اینڈ ہیپاٹولوجی” میں شائع ہونے والی تحقیق کے دوران برطانیہ کے بائیو بینک پروگرام کے تحت تقریباً 3 لاکھ 55 ہزار بالغ افراد کا 10 سال سے زائد عرصے تک جائزہ لیا گیا۔ اس دوران رضاکاروں کی کافی پینے کی عادات، جگر کی تصاویر، خون کے اشاریوں اور طبی ریکارڈز کا تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق روزانہ پانچ یا اس سے زیادہ کپ کافی پینے والے افراد میں جگر کے سکڑنے کی بیماری کا خطرہ 32 فیصد، جگر کے سرطان کا خطرہ 47 فیصد اور جگر سے متعلق اموات کا خطرہ 42 فیصد کم پایا گیا۔ روزانہ ایک سے دو کپ کافی پینے والوں میں بھی حفاظتی فوائد دیکھے گئے، تاہم زیادہ فائدہ زیادہ مقدار میں کافی استعمال کرنے والوں کو حاصل ہوا۔

تحقیق کے مرکزی مصنف اور جگر کے امراض کے ماہر ڈاکٹر ہیون سوک کم کے مطابق نتائج سے کافی کے استعمال اور بہتر جگر کی صحت کے درمیان تعلق مزید مضبوط ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کافی میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس اور نباتاتی مرکبات جسم میں سوزش کم کرنے، خلیات کو نقصان سے بچانے اور جگر میں چکنائی جمع ہونے کے عمل کو محدود کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

تحقیق میں عام اور بغیر کیفین والی کافی دونوں کے تقریباً یکساں فوائد سامنے آئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے مثبت اثرات صرف کیفین تک محدود نہیں۔ تاہم تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ کافی میں چینی یا مصنوعی مٹھاس شامل کرنے سے اس کے بعض حفاظتی اثرات کم ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے واضح کیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کافی براہِ راست جگر کی بیماریوں یا سرطان سے بچاتی ہے۔ ان کے مطابق جو افراد کافی نہیں پیتے، انہیں صرف جگر کے تحفظ کی خاطر روزانہ پانچ کپ کافی پینا شروع کرنے کی سفارش نہیں کی جا سکتی، کیونکہ زیادہ کیفین بعض افراد میں بے چینی، نیند کی خرابی، دل کی دھڑکن تیز ہونے اور معدے کی شکایات کا سبب بن سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے