سیب کا سرکہ وزن گھٹانے میں معمولی مددگار، بلڈ شوگر پر بھی محدود اثرات
سیب کا سرکہ وزن گھٹانے میں معمولی مددگار، بلڈ شوگر پر بھی محدود اثرات
سیب کا سرکہ، جسے عام طور پر اے سی وی (ACV) کہا جاتا ہے، خمیر کے عمل سے تیار ہوتا ہے۔ اس میں موجود ایسیٹک ایسڈ کو اس کے ممکنہ صحت بخش اثرات کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق کھانے کے ساتھ یا کھانے سے کچھ دیر قبل سیب کا سرکہ استعمال کرنے سے کھانے کے بعد خون میں شوگر اور انسولین کے اضافے میں معمولی کمی آسکتی ہے۔ تاہم اس کے اثرات محدود ہیں اور اسے شوگر کنٹرول کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔
وزن کم کرنے میں کتنا مؤثر؟
تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ سیب کا سرکہ وزن کم کرنے میں معمولی مدد دے سکتا ہے۔ 2009ء میں 175 افراد پر 12 ہفتوں تک کی جانے والی ایک تحقیق میں روزانہ سرکہ استعمال کرنے والے افراد کے وزن، باڈی ماس انڈیکس اور جسمانی چربی میں معمولی کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق سیب کا سرکہ چربی پگھلانے یا پیٹ کی چربی ختم کرنے کا فوری حل نہیں۔ اس کے ممکنہ فوائد متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔
آنتوں کی صحت پر اثرات
سیب کے سرکے کے نظامِ ہاضمہ اور آنتوں کی صحت پر اثرات کے حوالے سے ابتدائی تحقیق موجود ہے، تاہم زیادہ تر شواہد جانوروں پر ہونے والی تحقیقات سے حاصل ہوئے ہیں۔ انسانوں میں تحقیق محدود ہونے کے باعث یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ سیب کا سرکہ آنتوں کو بہتر یا گٹ مائیکرو بایوم کو بحال کرتا ہے۔
استعمال کا مناسب طریقہ
اگر مقصد کھانے کے بعد بلڈ شوگر میں اضافے کو کم کرنا ہو تو تحقیق کے مطابق سیب کا سرکہ کھانے کے ساتھ یا کچھ دیر قبل، خصوصاً کاربوہائیڈریٹ والی غذا کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم عام استعمال کے لیے اس کے پینے کا کوئی مخصوص بہترین وقت ثابت نہیں ہوا۔
ابتدا میں ایک چائے کا چمچ سیب کا سرکہ ایک بڑے گلاس پانی میں ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ مقدار استعمال کرنے سے زیادہ فوائد حاصل ہونا ثابت نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق سیب کا سرکہ تیزابی ہونے کے باعث بغیر پانی ملائے استعمال کرنے سے گلے میں جلن ہوسکتی ہے اور مسلسل استعمال دانتوں کی بیرونی حفاظتی تہہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسے پانی میں ملا کر پینا یا سلاد، کھانے اور گوشت کے مصالحے میں شامل کرنا نسبتاً بہتر طریقہ ہے۔
استعمال کے بعد منہ کو پانی سے صاف کرنا بھی مفید ہے، جبکہ سرکے کو دانتوں کے ساتھ زیادہ دیر رابطے میں رکھنے، منہ میں گھمانے یا اس سے کلی کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
