اگست 9, 2026

رانوں کی لمبائی سے ذیابیطس کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے، تحقیق

0
رانوں کی لمبائی سے ذیابیطس کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے، تحقیق

رانوں کی لمبائی سے ذیابیطس کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے، تحقیق

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ رانوں کی لمبائی سمیت جسمانی ساخت کی بعض پیمائشیں ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق نسبتاً چھوٹی ٹانگوں والے افراد میں ذیابیطس کا خطرہ زیادہ دیکھا گیا۔

برطانیہ میں 40 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کے تشخیص شدہ مریض ہیں، جن میں تقریباً 90 فیصد کیسز ٹائپ 2 ذیابیطس کے ہیں، جبکہ ایک اندازے کے مطابق مزید 13 لاکھ افراد ایسے ہیں جنہیں بیماری لاحق ہے لیکن ابھی تک تشخیص نہیں ہو سکی۔

ماہرین کے مطابق ذیابیطس کی علامات، جن میں تھکن، زیادہ پیاس لگنا اور بار بار پیشاب آنا شامل ہیں، بعض افراد میں بتدریج ظاہر ہوتی ہیں، جس کے باعث بیماری طویل عرصے تک تشخیص کے بغیر رہ سکتی ہے۔

ڈنمارک کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے محققین نے ایک آن لائن خود تشخیصی ٹیسٹ تیار کیا ہے، جسے ’’میڈویکس‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں عمر، جنس اور باڈی ماس انڈیکس سمیت مختلف عوامل کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں، جبکہ کچھ پیمائشیں گھر پر ٹیپ میجر، وزن کرنے والی مشین اور بلڈ پریشر مانیٹر کی مدد سے کی جا سکتی ہیں۔

محققین کے مطابق تحقیق میں ذیابیطس کے خطرے سے متعلق نمایاں عوامل میں ران کی کم لمبائی بھی شامل تھی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ران کی ہڈی کی لمبائی ابتدائی زندگی میں حاصل ہونے والی غذائیت اور نشوونما سے متعلق کچھ معلومات فراہم کرسکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق رانوں کے پٹھے جسم میں گلوکوز جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے کم عضلاتی حجم رکھنے والے افراد میں خون میں موجود شکر کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق رانوں کی لمبائی ذیابیطس کی تشخیص نہیں بلکہ ممکنہ خطرے کا ایک اشارہ ہو سکتی ہے۔ ذیابیطس کی حتمی تشخیص کے لیے طبی معائنہ اور خون کے ٹیسٹ ضروری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے