100 سال تک صحت مند زندگی کے لیے روزمرہ کی یہ عادت اپنائیں، ماہرین کا مشورہ
100 سال تک صحت مند زندگی کے لیے روزمرہ کی یہ عادت اپنائیں، ماہرین کا مشورہ
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)لندن: ماہرین صحت کے مطابق طویل اور صحت مند زندگی کے لیے متوازن غذا، مناسب نیند اور باقاعدہ ورزش کے ساتھ روزمرہ کی کچھ سادہ عادات بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
حال ہی میں روس کے اسکولکووو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین کی ایک تحقیق میں انسانی عمر کی ممکنہ نظریاتی حد کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق اگر بڑھاپے کے دیگر قابلِ واپسی عوامل پر قابو پا لیا جائے تو خلیات میں وقت کے ساتھ جمع ہونے والی جسمانی جینیاتی تبدیلیاں انسانی عمر کی ایک حد مقرر کر سکتی ہیں، جبکہ ماڈل کے مطابق یہ حد 146 سے 194 سال کے درمیان ہو سکتی ہے۔
تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک نظریاتی ماڈل ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مستقبل قریب میں 194 سال تک زندہ رہنے لگیں گے۔ موجودہ تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے میں متعدد حیاتیاتی عوامل کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق لمبی عمر کا مقصد صرف زندگی کے سال بڑھانا نہیں بلکہ بڑھاپے میں بھی صحت مند، متحرک اور خودمختار زندگی گزارنا ہونا چاہیے۔ اسی لیے صحت مند عادات کو عمر کے آخری حصے میں اپنانے کے بجائے کم عمری ہی سے معمول کا حصہ بنانا زیادہ مفید ہے۔
ماہرین کی جانب سے ایک نسبتاً کم معروف عادت فرش پر بیٹھنے اور دوبارہ کھڑے ہونے کی مشق بھی بتائی جاتی ہے۔ فرش پر بیٹھنا اور بغیر سہارے کے اٹھنے کی کوشش ٹانگوں کی طاقت، کولہوں کی لچک، توازن اور جسمانی ہم آہنگی کو جانچنے اور برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اس عادت کو روزمرہ زندگی میں شامل کرنے کے لیے ٹی وی دیکھتے ہوئے کچھ دیر فرش پر بیٹھنے، بچوں کے ساتھ فرش پر کھیلنے یا فرش پر بیٹھ کر ہلکی اسٹریچنگ کرنے کی تجویز دی جاتی ہے۔ اگر جسمانی حالت اجازت دے تو بغیر ہاتھوں کے سہارے کے بیٹھنے اور کھڑے ہونے کی مشق بھی کی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی طاقت، توازن اور حرکت کی صلاحیت برقرار رکھنا خودمختاری کے لیے اہم ہے، تاہم کسی بھی نئی ورزش یا جسمانی مشق کا آغاز اپنی صحت اور جسمانی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا چاہیے۔
