امریکا کے ایران پر نئے حملے، سینٹکام کا 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، تہران کا ردعمل بھی سامنے آگیا
امریکا کے ایران پر نئے حملے، سینٹکام کا 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، تہران کا ردعمل بھی سامنے آگیا
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)واشنگٹن/تہران: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے قبرص کے پرچم بردار کنٹینر بردار جہاز پر مبینہ حملے کے بعد کی گئی۔
سینٹکام کے مطابق ایرانی حملے کے نتیجے میں جہاز کے عملے کا ایک رکن لاپتا ہو گیا، جہاز میں آگ لگنے سے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا اور وہ اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران کو اس سے قبل بھی تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنے اور مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا، تاہم وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ حملے صدر کی ہدایت پر کیے گئے۔
سینٹکام نے مزید دعویٰ کیا کہ 11 جولائی کو اس ہفتے کی تیسری کارروائی مکمل کی گئی، جس میں زمینی و بحری طیاروں، ڈرونز اور جنگی جہازوں کے ذریعے تقریباً 140 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی بیان کے مطابق حملوں میں میزائل اور ڈرون تنصیبات، اسلحہ گودام، مواصلاتی نیٹ ورکس، بحری صلاحیتوں اور ساحلی مراکز کو ہدف بنایا گیا، جبکہ اب تک 300 سے زائد ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر صرف وارننگ شاٹ فائر کی گئی کیونکہ وہ غیر منظور شدہ راستے پر سفر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق وارننگ کے بعد جہاز نے اپنی پیش قدمی روک دی، جبکہ فارس نیوز نے دعویٰ کیا کہ جہاز کو کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا کیونکہ اس نے واپس مڑنے کی ہدایت نظر انداز کی تھی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران نے "غلط راستے کا انتخاب کیا ہے” اور اسے اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔
ادھر اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے نہ کیے تو ایران بھی اس پر عمل درآمد ترک کر سکتا ہے۔ سلامتی کونسل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے 7 اور 8 جولائی کو ایرانی جزائر اور جنوبی شہروں پر امریکی حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور باہمی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ایران بھی اپنی ذمہ داریوں کا پابند نہیں رہے گا۔
