مصنوعی مٹھاس چینی کا محفوظ متبادل نہیں؟ نئی تحقیق میں میٹابولزم پر ممکنہ اثرات کا انکشاف
مصنوعی مٹھاس چینی کا محفوظ متبادل نہیں؟ نئی تحقیق میں میٹابولزم پر ممکنہ اثرات کا انکشاف
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)لندن/بوسٹن: مصنوعی مٹھاس (آرٹیفیشل سویٹنرز) کو طویل عرصے سے چینی کا صحت مند متبادل قرار دیا جاتا رہا ہے، تاہم ایک نئی تحقیق نے اس تصور پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تحقیق کے مطابق عام استعمال ہونے والے کئی مصنوعی سویٹنرز خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کے بجائے اس کے توازن پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان مٹھاس میں کیلوریز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں، لیکن یہ جسم کے میٹابولزم اور خون میں شوگر کو منظم کرنے والے نظام کو متاثر کر سکتی ہیں۔
ٹفٹس یونیورسٹی کے فریڈمین اسکول آف نیوٹریشن سائنس اینڈ پالیسی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر مینگ وانگ اور ان کی ٹیم نے 21 رینڈمائزڈ کلینیکل ٹرائلز کا تجزیہ کیا۔ نتائج میں دیکھا گیا کہ مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں فاسٹنگ انسولین اور ایچ بی اے 1 سی کی سطح نسبتاً زیادہ رہی، جو خون میں شوگر کے طویل مدتی کنٹرول کا اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔
مزید برآں، تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ مصنوعی سویٹنرز استعمال کرنے والے افراد میں انسولین کی حساسیت میں کمی کے شواہد ملے، اگرچہ اس حوالے سے نتائج مکمل طور پر یکساں نہیں تھے۔
ماہرین کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی مٹھاس کے جسم پر اثرات پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں، اور اس موضوع پر مزید وسیع تحقیق کی ضرورت ہے۔ مطالعے میں موازنہ پانی یا کیلوری سے پاک پلیسبو استعمال کرنے والے افراد سے کیا گیا۔
