قالیباف: آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری اور دفاعی مؤقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
قالیباف: آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری اور دفاعی مؤقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی سب سے بڑی تزویراتی طاقت ہے اور تہران کسی بھی صورت اس پر اپنی خودمختاری سے دستبردار نہیں ہوگا۔
انہوں نے سرکاری ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی دستاویز کے تحت آبنائے ہرمز میں سمندری خدمات کی فیس سے صرف ساٹھ روز کے لیے عارضی استثنا دیا گیا ہے، تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایران اپنے مؤقف میں نرمی لائے گا۔
قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کی علاقائی سمندری حدود کا حصہ ہے اور ایران اسے عسکری بنانے کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایران اپنے دفاعی مؤقف، میزائل پروگرام اور یورینیم افزودگی کے حق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے انتظامی اور قانونی امور پر مکمل اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ لبنان میں جنگ بندی، ایرانی تیل کی برآمدات کے تسلسل اور منجمد اثاثوں کی رہائی سمیت کئی امور پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔
قالیباف کے مطابق ایران، امریکا اور لبنان کے درمیان کشیدگی سے بچاؤ کے لیے مشترکہ رابطہ مرکز قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے، جس کے لیے ایران اور امریکا اپنے نمائندے مقرر کر چکے ہیں جبکہ لبنان کی جانب سے بھی جلد نمائندہ نامزد کیے جانے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں چار کروڑ بیرل سے زائد تیل برآمد کیا جا چکا ہے، جو مؤثر سفارت کاری اور مضبوط دفاعی صلاحیتوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔
قالیباف نے واضح کیا کہ اگر امریکا اور اقوام متحدہ کی تمام پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو بات چیت جاری رہے گی اور ضرورت پڑنے پر ساٹھ روزہ مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
