امریکا نے ایران سے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات اسرائیل کو دینے سے انکار کر دیا
امریکا نے ایران سے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات اسرائیل کو دینے سے انکار کر دیا
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)واشنگٹن: امریکا نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساتھ زیر غور مجوزہ معاہدے اور مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات تک رسائی کی درخواست مسترد کر دی ہے، جس کے بعد دونوں اتحادی ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کا متن دیکھنے کے لیے باضابطہ درخواست دی تھی، تاہم امریکی حکام نے قومی سلامتی اور حساس سفارتی امور کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست مسترد کر دی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے بعض پہلو انتہائی حساس نوعیت کے ہیں، اس لیے انہیں فی الحال محدود دائرے میں رکھا جا رہا ہے۔
اسرائیلی حکام نے امریکی فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر متوقع قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق مجوزہ 14 نکاتی مسودے میں امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، ایران کی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر پابندیوں میں نرمی، مختلف محاذوں پر جنگ بندی اور ایران کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر تک کے ممکنہ منصوبوں سمیت متعدد اہم تجاویز شامل ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے مرحلہ وار جاری کیے جا سکتے ہیں، جبکہ امریکا مذاکرات کے آغاز سے قبل 12 ارب
مجوزہ مسودے میں حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کرانے کی تجویز بھی شامل بتائی جا رہی ہے۔
تاہم امریکا اور ایران میں سے کسی بھی حکومت نے ان دعوؤں یا مجوزہ نکات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے اور مشاورت کا عمل جاری ہے۔
