مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: پاکستان کا ایک سے 3 ماہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر بنانے کا فیصلہ
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: پاکستان کا ایک سے 3 ماہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر بنانے کا فیصلہ
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ توانائی بحران کے پیشِ نظر Pakistan نے توانائی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک سے تین ماہ تک کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ایک ماہ کے پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، جس کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ تخمینے کے مطابق 55 کروڑ ڈالر کی پیٹرولیم مصنوعات خریدی جائیں گی جبکہ 30 کروڑ ڈالر سے زائد رقم اسٹوریج سہولیات کی تعمیر اور بہتری پر خرچ کی جائے گی۔
Ministry of Petroleum ذرائع کا کہنا ہے کہ Saudi Arabia اور Kuwait نے اس منصوبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ Japan سمیت کئی ممالک پہلے ہی اس نوعیت کے اسٹریٹجک ذخائر قائم کر چکے ہیں۔
حکام کے مطابق پاکستان میں اس وقت سرکاری سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں اور صرف تقریباً 21 دن کی ضروریات کے برابر کمرشل اسٹاک موجود ہوتا ہے، جس کے باعث ہنگامی صورتحال یا عالمی منڈی میں بحران کے دوران حکومتی ذخائر ناگزیر سمجھے جا رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اسٹریٹجک ریزرو اور کمرشل ذخائر کو الگ رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں ملک کو ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ منصوبے کے تحت دوست ممالک بھی ضرورت پڑنے پر پاکستان سے تیل حاصل کر سکیں گے۔
وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے طویل المدتی انرجی سیکیورٹی پلان کا حصہ ہے، جبکہ Qatar کے ساتھ پاکستان کے طویل المدتی پیٹرولیم درآمدی معاہدے پہلے سے موجود ہیں۔
