مئی 15, 2026

خوبانی کے بیج زیادہ کھانا جان لیوا ہوسکتا ہے، ماہرین صحت کی وارننگ

0
خوبانی کے بیج زیادہ کھانا جان لیوا ہوسکتا ہے، ماہرین صحت کی وارننگ

خوبانی کے بیج زیادہ کھانا جان لیوا ہوسکتا ہے، ماہرین صحت کی وارننگ

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ماہرین صحت نے خوبانی کے بیجوں کے زیادہ استعمال سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں موجود ایک مخصوص کیمیکل انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ یہ تاثر بھی مسترد کردیا گیا ہے کہ خوبانی کے بیج کینسر کے علاج میں مددگار ہوتے ہیں۔

Aga Khan University Hospital کی ڈاکٹر Farah Syed نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خوبانی کے بیج میں “ایمیگڈالین” نامی مادہ پایا جاتا ہے، جو انسانی آنتوں میں جا کر ممکنہ طور پر مہلک کیمیکل “سائینائیڈ” میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر فرح سید کے مطابق خطرے کی شدت بیجوں کی مقدار پر منحصر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص محدود مقدار میں، یعنی 5 سے 6 بیج استعمال کرے تو عموماً نقصان نہیں ہوتا، تاہم 15 سے 20 بیج کھانا انتہائی خطرناک اور بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سائینائیڈ ایک زہریلا مادہ ہے جو جسم میں آکسیجن کی فراہمی کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں چکر آنا، سانس لینے میں دشواری، متلی اور شدید کمزوری جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ زیادہ مقدار میں اس کا استعمال انسانی جان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

طبی ماہرین نے خوبانی کے بیجوں کو کینسر کے علاج میں مؤثر قرار دینے والے دعوؤں کو بھی مسترد کردیا۔ ڈاکٹر فرح سید کے مطابق اب تک میڈیکل سائنس میں ایسی کوئی مستند تحقیق سامنے نہیں آئی جس سے ثابت ہو کہ خوبانی کے بیج کینسر کے علاج یا روک تھام میں مدد دیتے ہیں۔

ماہرین نے واضح کیا کہ “ایمیگڈالین” صرف خوبانی کے بیجوں میں ہی نہیں بلکہ آلو بخارا، سیب، ناشپاتی، آڑو اور چیری کے بیجوں میں بھی پایا جاتا ہے، تاہم ان کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے