اگست 10, 2026

تمباکو، نمک سے پرہیز اور بلڈ پریشر کنٹرول، ڈیمنشیا کو 13 سال تک مؤخر کیا جا سکتا ہے: تحقیق

0
تمباکو، نمک سے پرہیز اور بلڈ پریشر کنٹرول، ڈیمنشیا کو 13 سال تک مؤخر کیا جا سکتا ہے: تحقیق

تمباکو، نمک سے پرہیز اور بلڈ پریشر کنٹرول، ڈیمنشیا کو 13 سال تک مؤخر کیا جا سکتا ہے: تحقیق

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)لندن: ماہرینِ صحت کے مطابق درمیانی عمر میں صحت مند عادات اپنانے سے ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ اس بیماری کے آغاز کو کئی سال تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔

ایک نئی امریکی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ اگر درمیانی عمر میں بلڈ پریشر کو معمول پر رکھا جائے، خون میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھا جائے اور سگریٹ نوشی سے گریز کیا جائے تو ڈیمنشیا کے آغاز کو تقریباً 13 سال تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔

نیو یارک یونیورسٹی کے محققین کے مطابق خواتین میں مردوں کے مقابلے میں ڈیمنشیا نسبتاً دیر سے ظاہر ہوتا ہے، چاہے ان میں بیماری کے خطرے کے عوامل موجود ہی کیوں نہ ہوں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی اور زیادہ نمک کے استعمال سے پرہیز بلڈ پریشر اور مجموعی صحت کو بہتر رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنا بھی دماغی صحت کے لیے اہم ہے۔

تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے ورزش، متوازن غذا اور جسمانی وزن کو مناسب حد میں رکھنا ڈیمنشیا کے خطرے کو 45 فیصد سے زیادہ کم کر سکتا ہے۔

برطانیہ میں اس وقت 9 لاکھ سے زائد افراد ڈیمنشیا کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ یہ بیماری ملک میں اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے اور ہر سال 74 ہزار سے زائد اموات کا سبب بنتی ہے۔

ڈیمنشیا کے زیادہ تر کیسز 65 سال سے زائد عمر میں سامنے آتے ہیں اور 65 سال کی عمر کے بعد اس بیماری کا خطرہ ہر پانچ سال میں تقریباً دگنا ہوجاتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ڈیمنشیا بڑھاپے کا لازمی حصہ نہیں اور صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے اس کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

نیو یارک یونیورسٹی لینگون ہیلتھ کے سائنس دانوں کی تازہ تحقیق بھی اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ درمیانی عمر میں صحت کے اہم عوامل کو قابو میں رکھنے سے ڈیمنشیا کے آغاز کو ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے