مسوڑھوں سے خون آنا گردوں کی بیماری کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے، نئی تحقیق
مسوڑھوں سے خون آنا گردوں کی بیماری کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے، نئی تحقیق
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مسوڑھوں سے خون آنا یا ان کی شدید بیماری گردوں کی ابتدائی خرابی کی علامت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مسوڑھوں کی بیماری کی عام علامات میں مسوڑھوں کا سوج جانا، سرخ ہونا اور دانت صاف کرتے وقت خون آنا شامل ہیں۔ یہ مسئلہ عموماً منہ کی صفائی کا مناسب خیال نہ رکھنے کے باعث دانتوں پر جم جانے والی میل کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ صرف منہ تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ مجموعی صحت سے بھی جڑا ہو سکتا ہے۔
جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں ہونے والی تحقیق میں چھ ہزار سے زائد افراد کے دانتوں اور گردوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے پایا کہ جن افراد کے گردے معمول کے مطابق کام کر رہے تھے، ان میں شدید مسوڑھوں کی بیماری کی شرح 14 فیصد تھی، جبکہ گردوں کی درمیانی درجے کی خرابی کے شکار افراد میں یہ شرح 35 فیصد سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
تحقیق کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ جن افراد کے پیشاب میں ایک خاص قسم کی پروٹین کی مقدار زیادہ تھی، جو گردوں کے متاثر ہونے کی علامت سمجھی جاتی ہے، ان میں مسوڑھوں کی بیماری زیادہ شدید تھی۔ اس کے علاوہ دانتوں کا گرنا اور دانتوں کو سہارا دینے والے بافتوں کا نقصان بھی گردوں کی صحت میں خرابی کے ساتھ زیادہ نمایاں دیکھا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ منہ اور دانتوں کی صحت کا مجموعی جسمانی صحت، خصوصاً گردوں کے افعال، سے گہرا تعلق ہے۔ اس سے پہلے بھی مختلف تحقیقات میں مسوڑھوں کی دائمی سوزش کو دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور دیگر سنگین امراض سے جوڑا جا چکا ہے۔
محققین کے مطابق منہ کی صحت کا باقاعدہ خیال رکھنا نہ صرف دانتوں اور مسوڑھوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے بلکہ گردوں کی بیماری کی ابتدائی نشاندہی میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
