مئی 18, 2026

پروسٹیٹ کینسر کی نگرانی کے لیے نئے بلڈ ٹیسٹ کی کامیاب آزمائش

0
پروسٹیٹ کینسر کی نگرانی کے لیے نئے بلڈ ٹیسٹ کی کامیاب آزمائش

پروسٹیٹ کینسر کی نگرانی کے لیے نئے بلڈ ٹیسٹ کی کامیاب آزمائش

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)سائنس دانوں نے ایک نئے بلڈ ٹیسٹ کی آزمائش کی ہے جو مستقبل میں ڈاکٹروں کو یہ جاننے میں مدد دے سکتا ہے کہ پروسٹیٹ کینسر کا علاج کب ناکام ہونا شروع ہو رہا ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق یہ پیشرفت مریضوں کے لیے زیادہ ذاتی نوعیت کے علاج کو ممکن بنا سکتی ہے اور ایڈوانس اسٹیج بیماری میں مبتلا مردوں کی زندگی بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

University College London کی اس تحقیق میں یہ جانچا گیا کہ آیا خون میں موجود ٹیومر کے ڈی این اے کے نہایت چھوٹے ذرات کے ذریعے کینسر کی مسلسل بڑھوتری کو پکڑا جا سکتا ہے یا نہیں۔

برطانیہ کے 14 مختلف این ایچ ایس مراکز میں کی گئی اس تحقیق میں 117 ایسے مرد شامل تھے جن میں حال ہی میں پھیل جانے والے پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔

محققین نے دریافت کیا کہ علاج شروع ہونے کے چھ سے بارہ ہفتوں بعد بھی ہر 10 میں سے 3 مریضوں کے خون میں ٹیومر کا ڈی این اے واضح طور پر موجود تھا۔

تحقیق میں سب سے اہم بات یہ سامنے آئی کہ جب ان ڈی این اے ٹیسٹس کو پی ایس اے لیولز کے ساتھ ملا کر دیکھا گیا تو ایسے مردوں کی نشاندہی ہوئی جن کی موت کا خطرہ اُن افراد کے مقابلے میں 20 گنا زیادہ تھا جن کے خون میں ٹیومر کا ڈی این اے موجود نہیں تھا اور پی ایس اے لیول بھی کم تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے